دوسرا حفظ الرابط
اس مضمون کو پھیلاؤ، نقل یا استعمال کرنے سے پہلے، برائے مہربانی اس کی شرائط و ضوابط کو دیکھیں۔
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ ایک طویل اور پیچیدہ ہے، جس میں مختلف سلطنتوں، ممالک اور ثقافتوں کا عروج اور زوال دیکھا گیا ہے۔ اس مضمون میں، ہم 712 سے 1947 تک برصغیر کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں گے، جو اسلامی فتح سے لے کر ہندوستان اور پاکستان کی آزادی تک کا سفر ہے۔
712 سے 1947 تک برصغیر کی تاریخ ایک پیچیدہ اور دلچسپ کہانی ہے، جس میں مختلف سلطنتوں، ممالک اور ثقافتوں کا عروج اور زوال دیکھا گیا ہے۔ آج، ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک برصغیر میں اپنی جڑیں تلاش کر رہے ہیں، جبکہ اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کام کر رہے ہیں۔
حفظ الرابط
19ویں صدی کے آخر میں، ہندوستان میں برطانوی حکمرانی کے خلاف ایک بڑھتی ہوئی تحریک نے شکل اختیار کرنا شروع کر دی۔ انڈین نیشنل کانگریس، جس کی تاسیس 1885 میں ہوئی، آزادی کی تحریک کی قیادت کر رہی تھی، جس میں گاندھی، نہرو اور پٹناائک جیسے رہنماؤں نے حصہ لیا۔
** تقسیم اور آزادی (1947)**
712 عیسوی میں، عرب فوجوں نے برصغیر پر حملہ کیا، جس میں سولہ سالہ راجہ داہیر کو شکست دی اور سندھ کو فتح کیا۔ یہ اسلامی حکمرانی کے آغاز کا نشان تھا، جو اگلی چند صدیوں تک برصغیر کے مختلف حصوں پر حاوی رہی۔ غزنویوں، غوریوں اور دہلی سلطنت نے برصغیر کے وسیع حصوں پر حکومت کی، جس میں اسلامی فن تعمیر، فن اور ادب کی ترقی ہوئی۔
** مغلیہ سلطنت (1526-1857)**
1947 میں، برطانوی حکومت نے ہندوستان کو آزادی دینے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے ساتھ ہی، برصغیر کو دو الگ الگ ممالک: ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کیا گیا۔ ہندوستان نے 15 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی، جبکہ پاکستان نے 14 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی۔
** تاریخ کے صفحات: 712 سے 1947 تک برصغیر کی تاریخ**